منگلورو15؍جنوری(ایس او نیوز)مرکزی حکومت نے ملک کے مختلف ہوئی اڈے نجی کمپنیوں کو ٹھیکے پر دینے کا جو فیصلہ کیا ہے اس میں منگلورو انٹرنیشنل ایئر پورٹ بھی شامل ہے۔ چونکہ ٹھیکہ دینے کی کاغذی کارروائی شروع ہوچکی ہے اس لئے بولی لگانے والی کمپنیوں کے نمائندوں کو متعلقہ ایئر پورٹس پر پہنچ کر شخصی طور پر ایئر پورٹ کا جائزہ لینے کی اجازت دی گئی ہے۔
پتہ چلا ہے کہ اسی ضمن میں جی ایم آر ایئر پورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ اور نیشنل انویسٹمنٹ اینڈ انفرااسٹرکچر فنڈ کے نمائندے 14جنوری کی صبح دس بجے منگلورو ایئر پورٹ کا جائزہ لینے اور تخمینہ لگانے کے لئے پہنچے۔ مگر جیسے ہی ٹھیکے دار کمپنی کے نمائندوں کی آمد کے سلسلے میں ایئر پورٹ کے ملازمین کو پتہ چلا تو وہ لوگ فوراً احتجاجی مظاہرے پر اتر آئے اور کمپنی کے نمائندوں کو کسی قسم کی کارروائی کرنے کا موقع نہیں دیا۔اس صورتحال سے پریشان ہوکر کمپنی کے نمائندے خالی ہاتھ واپس لوٹنے پر مجبور ہوگئے۔
ایئر پورٹ ایمپلائز ایسو سی ایشن ، مقامی یونٹ کے سیکریٹری شراون کمار نے بتایا کہ منگلورو ایئر پورٹ منافع میں چل رہا ہے۔ یہاں کے ملازمین اس بات پر اٹل ہیں کہ کسی بھی صورت میں اسی پرائیویٹ کمپنیوں کو ٹھیکے پر دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جس طرح اب احتجاج کرکے انہیں واپس جانے پر مجبور کیا گیا ہے بالکل اسی طرح آئندہ بھی رکاوٹ پید اکی جائے گی۔